تم اپنے خون جگر سے کبھی وضو تو کرو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 32
تمہیں بھی علم ہو اہل وفا پہ کیا گزری
تم اپنے خون جگر سے کبھی وضو تو کرو
نہیں ہے ریشم و کمخواب کی قبا نہ سہی
ہمارے دامن صد چاک کو رفو تو کرو
نگار صبح گریزاں کی تابشوں کو کبھی
ہمارے خانہ ظلمت کے رو برو تو کرو
طلوع مہر درخشاں ابھی کہاں یارو
سیاہیوں کے افق کو لہو لہو تو کرو
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s