اب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 69
تو نے کیا کیا نہ اے زندگی، دشت و در میں پھِرایا مجھے
اب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھے
اور بھی کچھ بھڑکنے لگا میرے سینے کا آتش کدہ
راس تجھ بن نہ آیا کبھی سبز پیڑوں کا سایا مجھے
ان نئی کونپلوں سے مرا کیا کوئی بھی تعلّق نہ تھا؟
شاخ سے توڑ کر، اے صبا!، خاک میں کیوں ملایا مجھے
درد کا دیپ جلتا رہا، دل کا سونا پگھلتا رہا
ایک ڈوبے ہوئے چاند نے رات بھر خوں رلایا مجھے
اب مرے راستے میں کہیں خوفِ صحرا بھی حائل نہیں
خشک پتّے نے آوارگی کا سلیقہ سکھایا مجھے
مدّتوں روئے گل کی جھلک کو ترستا رہا میں شکیبؔ
ان جو آئی بہار اس نے صحنِ چمن میں نہ پایا مجھے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s