آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 13
غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا
سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا
کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں
ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا
دشت بھی اس کے مکیں، شہر بھی اس سے آباد
تو جہاں آن بسے ، دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا
تو وہی ہے جو مرے دل میں چھپا بیٹھا ہے
اک یہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہوا
یہ سمجھتے ہوئے مقصودِ نظر ہے تو ہی
میں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا
اس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جائے
تجھ کو پا لینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہوا
تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے
میں کہیں ہم سفرِ ابرِ رواں کیوں نہ ہوا
اجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے
میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا
نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیبؔ
حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہوا
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s