یاد یاراں یار، یاراں کیا ہوئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 165
کیا ہوئے آشفتہ کاراں کیا ہوئے
یاد یاراں یار، یاراں کیا ہوئے
اب تو اپنوں میں سے کوئی بھی نہیں
وہ پریشاں روزگاراں کیا ہوئے
سو رہا ہے شام ہی سے شہر اول
شہر کے شب زندہ داراں کیا ہوئے
اس کی چشم نیم وا سے پوچھیو
وہ ترے مژگاں شماراں کیا ہوئے
اے بہار انتظار فصل گل
وہ گریباں تار تاراں کیا ہوئے
کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے
خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے
یاد اس کی ہو گئی ہے بے اماں
یاد کے بے یادگاراں کیا ہوئے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s