ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 12
سرکار! اب جنوں کی ہے سرکار کچھ سُنا
ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا
شہر قلندراں کا، ہوا ہے عجیب طور
سب ہیں جہاں پناہ سے بیزار کچھ سُنا
مصرُوف کوئی کاتبِ غیبی ہے روز و شب
کیا ہے بھلا نوشتۂِ دیوار کچھ سُنا
آثار اب یہ ہیں کہ گریبانِ شاہ سے
اُلجھیں گے ہاتھ برسرِ دربار کچھ سُنا
اہلِ سِتم سے معرکہ آراء ہے اِک ہجوم
جس کو نہیں مِلا کوئی سردار کچھ سُنا
خُونِیں دِلانِ مرحلۂِ اِمتحاں نے آج
کیا تمکنت دِکھائی سرِ دار کچھ سُنا
کیا لوگ تھے کہ رنگ بِچھاتے چلے گئے
رفتار تھی کہ، خُون کی رفتار کچھ سُنا
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s