ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s