کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 172
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے
اے زمینِ وصال لوگ ترے
ہجر کا آسمان چھوڑ گئے
تیرے کوچے کے رُخصتی جاناں
ساری دنیا کا دھیان چھوڑ گئے
روزِ میداں وہ تیرے تیرانداز
تیر لے کر کمان چھوڑ گئے
جون لالچ میں آن بان کی یار
اپنی سب آن بان چھوڑ گئے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s