کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 205
غبارِ محمل گل پر ہجوم یاراں ہے
کہ ہر نفس، نفسِ آخرِ بہاراں ہے
بتاؤ وجد کروں یا لبِ سخن کھولوں
ہوں مستِ راز اور انبوہ رازداراں ہے
مٹا ہوا ہوں شباہت پہ نامداروں کی
چلا ہوں کہ یہی وضعِ نامداراں ہے
چلا ہوں پھر سرِ کوئے دراز مژگاں
مرا ہنر زخم تازہ داراں ہے
یہی وقت کہ آغوش دار رقص کروں
سرورِ نیم شبی ہے صفِ نگاراں ہے
ہوا ہے وقت کہیں سے علیم کو لاؤ
ہے ایک شخص جو کمبخت یارِ یاراں ہے
فراق یار کو ٹھیرا لیا ہے عذرِ ہوس
کوئی بتاؤ یہی رسمِ سوگواراں ہے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s