کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s