کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 159
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے
عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز
بہ سوئے بادیہ محمل میں بیٹھ کر آئے
کبھی گئے تھے میاں جو خبر کو صحرا کی
وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے
کوئی جنوں نہیں سودائیانِ صحرا کو
کہ جو عزاب بھی آئے وہ شہر پر آئے
بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا
پرندگانِ ہوا خاک پر اُتر آئے
عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو
خیالِ خام کا ناوان تھا سو بھر آئے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s