پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 173
خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے
انہیں شہروں کوشتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے
بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے
پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے
یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے
ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے
یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جون جو ڈھائے بھی گئے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s