وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 154
گہے وصال تھا جس سے تو گاہ فرقت تھی
وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی
وہ بات جس کا گلہ تک نہیں مجھے، پر ہے
کہ میری چاہ نہیں تھی، مری ضرورت تھی
وہ بیدلی کی ہوائیں چلیں کہ بھول گئے
کہ دل کے کون سے موسم کی کیا روایت تھی
نہ اعتبار نہ وعدہ، بس ایک رشتہ دید
میں اُس سے روٹھ گیا تھا، عجیب ہمت تھی
گمانِ شوق، وہ محمل نظر نہیں آتا
کنارِ دشت وہی تو بس اک عمارت تھی
حساب عشق میں آتا بھی کسی حسین کا نام
کہ ہر کسی میں کسی اور کی شباہت تھی
ہے اُس سے جنگ اب ایسی کہ سامنا نہ کریں
کبھی اُسی سے کمک مانگنے کی عادت تھی
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s