میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 14
کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا
دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا
شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا
بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا
ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا
مال بازارِ زمیں کا تھا میں جون
آسمانوں میں میرا سودا ہوا
اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بُھولا ہوا
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s