عقل حیراں ہے کیا کیا جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 161
دل پریشاں ہے کیا کیا جائے
عقل حیراں ہے کیا کیا جائے
شوقِ مشکل پسند اُن کا حصول
سخت آساں ہے کیا کیا جائے
عشقِ خوباں کے ساتھ ہی ہم میں
نازِ خوباں ہے کیا کیا جائے
بے سبب ہی مری طبیعتِ غم
سب سے نالاں ہے کیا کیا جائے
باوجود ان کی دلنوازی کے
دل گریزاں ہے کیا کیا جائے
میں تو نقدِ حیات لایا تھا
جنس ارزاں ہے کیا کیا جائے
ہم سمجھتے تھے عشق کو دشوار
یہ بھی آساں ہے کیا کیا جائے
وہ بہاروں کی ناز پروردہ
ہم پہ نازاں ہے کیا کیا جائے
مصرِ لطف و کرم میں بھی اے جونؔ
یادِ کنعاں ہے کیا کیا جائے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s