شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 123
ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں
شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہم
اس کے وعدوں کو بھلانے کے لیے نکلے ہیں
ہم سے جو روٹھ گیا ہے وہ بہت معصوم ہے
ہم تو اوروں کو منانے کے لیے نکلے ہیں
شہر میں شورہے، وہ یوں کہ گماں کے سفری
اپنے ہی آپ میں آنے کے لیے نکلے ہیں
وہ جو تھے شہر تحیر ترے پر فن معمار
وہی پُر فن تجھے ڈھانے کے لیے نکلے ہیں
راہگزر میں تری قالین بچھانے والے
خون کا فرش بچھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں کرنا ہے خداوند کی امداد سو ہم
دیر و کعبہ کو لڑانے کے لیے نکلے ہیں
سر شب اک نئی تمثیل بپا ہونی ہے
اور ہم پردہ اٹھانے کے لیے نکلے ہیں
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہم
خون میں اپنے نہانے کے لیے نکلے ہیں
ہم کہیں کے بھی نہیں پر یہ ہے روداد اپنی
ہم کہیں سے بھی نہ جانے کے لیے نکلے ہیں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s