سر کوئے دراز مژگاناں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 2
رقصِ جاں میں ہیں زخم ساماناں
سر کوئے دراز مژگاناں
اب نہیں حال سینہ کوبی کا
آؤ سینے سے آ لگو جاناں
میرا حق تو یہ تھا کہ گرد مرے
ہو اک انبوہ نار پستاناں
اپنی ورزش کے دھیان ہی سے ہمیں
مار رکھتے ہیں صندلیں راناں
ہائے وہ نارسائیاں جو گئیں
بحسابِ مزاج درباناں
داغ سینے کے کچھ ہنر تو نہ تھے
وائے برسوخستہ گریباناں
کر عجب، گر ہو ایک لمحہ عیش
حاصل۔ عمرِ لمحہ مہماناں
نہ گئے تا حریمِ رنگ کبھی
خون روتے رہے تن آساناں
وصل تو کیا، نہیں نصیب ہمیں
اب تمہارا فراق تک جاناں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s