زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 168
خوش گذران شہر غم ، خوش گذراں گزر گئے
زمزمہ خواں گزر گئے ، رقص کناں گزر گئے
وادی غم کے خوش خرام ، خوش نفسان تلخ جام
نغمہ زناں ، نوازناں ، نعرہ زناں گزر گئے
سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کہ وہ گروہ
صر صر بے اماں کے ساتھ ، دست فشاں گزر گئے
زہر بہ جام ریختہ، زخم بہ کام بیختہ
عشرتیان رزق غم ، نوش چکاں گزر گئے
اس در نیم وا سے ہم حلقہ بہ حلقہ صف بہ صف
سینہ زناں گزر گئے ، جامہ وراں گزر گئے
ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا!
ہم ہی خدا گزیدگاں تم پہ گراں گزر گئے
اس کی وفاکے باوجود اس کو نہ پا کے بد گماں
کتنے یقیں بچھڑ گئے ، کتنے گماں گزر گئے
مجمع مہ وشاں سے ہم زخم طلب کے باوجود
اپنی کلاہ کج کیے ، عشوہ کناں گزر گئے
خود نگران دل زدہ ، دل زدگان خود نگر!
کوچہ ءِ التفات سے خود نگراں گزر گئے
اب یہی طے ہوا کہ ہم تجھ سے قریب تر نہیں
آج ترے تکلفات دل پہ گراں گزر گئے
رات تھی میرے سامنے فرد حساب ماہ و سال
دن ، مری سرخوشی کے دن، جانے کہاں گزر گئے
کیا وہ بساط الٹ گئی، ہاں وہ بساط الٹ گئی
کیا وہ جواں گزر گئے ؟ ہاں وہ جواں گزر گئے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s