دل میری جان تیرے بس کا نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 132
کون سے شوق کِس ہوس کا نہیں
دل میری جان تیرے بس کا نہیں
راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمہء جرس کا نہیں
ہاں میرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یارانِ نکتہ رَس کا نہیں
ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں
ہو گئی اس گِلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خاروخس کا نہیں
مُجھ کو خود سے جُدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں
کیا لڑائی بَھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s