خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 235
فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار ،دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو ، غبار دل میں رہے
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار ، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے انکا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s