جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 119
کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں
جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں
اب تم شہرکے آداب سمجھ لو جانی
جو مِلا ہی نہیں کرتے وہ مِلا کرتے ہیں
جہلا علم کی تعظیم میں برباد گئے
جہل کا عیش جو ہے وہ علما کرتے ہیں
لمحے لمحے میں جیو جان اگر جینا ہے
یعنی ہم حرصِ بقا کو بھی فنا کرتے ہیں
جانے اس کوچہء حالت کا ہے کیا حال کہ ہم
اپنے حجرے سے بہ مشکل ہی اُٹھا کرتے ہیں
میں جو کچھ بھی نہیں کرتا ہوں یہ ہے میرا سوال
اور سب لوگ جو کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں
اب یہ ہے حالتِ احوال کہ اک یاد سے ہم
شام ہوتی ہے تو بس رُوٹھ لیا کرتے ہیں
جس کو برباد کیا اس کے فداکاروں نے
ہم اب اس شہر کی رُوداد سنا کرتے ہیں
شام ہو یا کہ سحر اب خس و خاشاک کو ہم
نزرِ پُرمایگئ جیبِ صبا کرتے ہیں
جن کو مُفتی سے کدورت ہو نہ ساقی سے گِلہ
وہی خوش وقت مری جان رہا کرتے ہیں
ایک پہنائے عبث ہے جسے عالم کہیے
ہو کوئی اس کا خدا ہم تو دعا کرتے ہیں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s