تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 95
مرا یہ مشورہ ہے، التجا نئیں
تو میرے پاس سے اس وقت جا نئیں
کوئی دم چین پڑ جاتا مجھے بھی
مگر میں خود سے دم بھر کو جدا نئیں
میں خود سے کچھ بھی کیوں منوا رہا ہوں
میں یاں اپنی طرف بھیجا ہوا نئیں
پتا ہے جانے کس کا نام میرا
مرا کوئی پتا میرا پتا نئیں
سفر درپیش ہے اک بے مسافت
مسافت ہو تو کوئی فاصلہ نئیں
ذرا بھی مجھ سے تم غافل نہ رہیو
میں بے ہوشی میں بھی بے ماجرا نئیں
دکھ اس کے ہجر کا اب کیا بتاؤں
کہ جس کا وصل بھی تو بے گلہ نئیں
ہیں اس قامت سوا بھی کتنے قامت
پر اک حالت ہے جو اس کے سوا نئیں
محبت کچھ نہ تھی جز بد حواسی
کہ وہ بندِ قبا ہم سے کھلا نئیں
وہ خوشبو مجھ سے بچھڑی تھی یہ کہہ کر
منانا سب کو پر اب روٹھنا نئیں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s