تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 103
تیرا زیاں رہا ہوں میں، اپنا زیاں رہوں گا میں
تلخ ہے میری زندگی، تلخ زباں رہوں گا میں
تیرے حضور، تجھ سے دور، جلتی رہے گی زندگی
شعلہ بجاں رہا ہوں میں، شعلہ بجاں رہوں گا میں
تجھ کو تباہ کر گئے، تیری وفا کے ولولے
یہ مرا غم ہے میرا غم، اس میں تپاں رہوں گا میں
حیف نہیں ہے دیکھ بھال میری نصیب میں ترے
یعنی متاعِ بردہ ءِ کم نظراں رہوں گا میں
جاز کی دھن اداس ہے، دل بھی بہت اداس ہے
جانے کہاں بسے گی تو، جانے کہاں رہوں گا میں
ہم ہیں جدا جدا مگر، فن کی بساطِ رنگ پر
رقص کناں رہے گی تو، زمزمہ خواں رہوں گا میں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s