تجھ زبانی تری خبر چاہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 94
خود سے ہر دم ترا سفر چاہوں
تجھ زبانی تری خبر چاہوں
میں تجھے اور تو ہے کیا کیا کچھ
ہوں اکیلا پہ رات بھر چاہوں
مجھ سے میرا سراغ کیوں کہ یہ کام
میں ترے نقشِ پا کہ سر چاہوں
خونِ گرم اپنا پارچے اپنے
میں خود اپنی ہی میز پر چاہوں
ہیں بیاباں مری درازوں میں
کیوں بگولے برہنہ سر چاہوں
مجھ کو گہرائی میں اترنا ہے
پر میں گہرائی سطح پر چاہوں
اک نظر ڈالنی ہے منظر پر
کہکشائیں کمر کمر چاہوں
ضد ہے زخموں میں بیر جذبوں میں
میں کئی دل کئی جگر چاہوں
اب تو اس سوچ میں ہوں سرگرداں
کیا میں چاہوں بھلا اگر چاہوں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s