بند آنکھوں نگاہ کی جائے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 163
ذات اپنی گواہ کی جائے
بند آنکھوں نگاہ کی جائے
ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن
کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے
ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے
دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری
مملکت بے سپاہ کی جائے
ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو
جون ! وہ بےکلاہ کی جائے
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s