اور ہاں یکبارگی کی جائے گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 150
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
اور ہاں یکبارگی کی جائے گی
کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ
اب تو بس آوارگی کی جائے گی
تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم
یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی
یار اس دن کو کبھی آنا نہیں
پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی
اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں
ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی
ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں
اب تو یاراں نارسی کی جائے گی
آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں
آج کی بات آج ہی کی جائے گی
ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک
یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s