اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 13
میرا، میری ذات میں سودا ہوا
اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا
کیا سناؤں سرگزشتِ زندگی؟
اِک سرائے میں تھا، میں ٹھیرا ہوا
پاس تھا رِشتوں کا جس بستی میں عام
میں اس بستی میں بے رشتہ ہوا
اِک گلی سے جب سے رُوٹھن ہے مری
میں ہوں سارے شہر سے رُوٹھا ہوا
پنج شنبہ اور دُکانِ مے فروش
کیا بتاؤں کیسا ہنگامہ ہوا
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s