اس کو اپنے ساتھ لیں آرائش دنیا کریں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 97
ہے تمنا ہم نئے شام و سحر پیدا کریں
اس کو اپنے ساتھ لیں آرائش دنیا کریں
ہم کریں قائم خود اپنا اک دبستان نظر
اور اسرار رموز زندگی افشا کریں
دفتر حکمت کے شک پرور مباحث چھیڑ کر
شہر دانش کے نئے ذہنوں کو بہکایا کریں
اپنے فکر تازہ پرور سے بہ انداز نویں
حکمت یونان و مصر و روم کا احیا کریں
ہو خلل انداز کوئی بھی نہ استغراق میں
ہم یونہی تا دیر آں سوئے افق دیکھا کریں
رات دن ہوں کائناتی مسٗلے پیشِ نظر
اور جب تھک جائیں تو اس شوخ کو چھیڑا کریں
جون ایلیا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s