نِکّی

طلاق لینے کے بعد وہ بالکل نچنت ہو گئی تھی۔ اب وہ ہر روز کی وانتا کِل کِل اور مار کٹائی نہیں تھے۔ نِکی بڑے آرام و اطمینان سے اپنا گزر اوقات کررہی تھی۔ یہ طلاق پورے دس برس کے بعد ہوئی تھی۔ نِکی کا شوہر بہت ظالم تھا۔ پرلے درجے کا نکھٹو اور شرابی کبابی۔ بھنگ چرس کی بھی لت تھی۔ کئی کئی دن بھنگڑ خانوں میں اور تکیوں میں پڑا رہتا تھا۔ ایک لڑکا ہوا تھا۔ وہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ برس کے بعد ایک لڑکی ہوئی جو زندہ تھی اور اب نو برس کی تھی۔ نِکی سے اس کے شوہر گام کو اگرکوئی دلچسپی تھی تو صرف اتنی کہ وہ اس کو مار پیٹ سکتا تھا۔ جی بھر کے گالیاں دے سکتا تھا۔ طبیعت میں آئے تو کچھ عرصے کے لیے گھر سے نکال دیتا تھا۔ اس کے علاوہ نِکی سے اس کو اور کوئی سروکار نہیں تھا۔ محنت مزدوری کی جب تھوڑی سی رقم نِکی کے پاس جمع ہوتی تھی تو وہ اس سے زبردستی چھین لیتا تھا۔ طلاق بہت پہلے ہو چکی ہوتی۔ اس لیے کہ میاں بیوی کے نباہ کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ یہ صرف گام کی ضد تھی کہ معاملہ اتنی دیر لٹکا رہا اس کے علاوہ ایک بات یہ تھی کہ نِکی کے آگے پیچھے کوئی بھی نہ تھا۔ ماں باپ نے اس کو ڈولی میں ڈال کر گام کے سپرد کیا اور دو مہینے کے اندر اندر راہی ملک بقا ہوئے جیسے انھوں نے صرف اسی غرض کے لیے موت کو روک رکھا تھا۔ انھیں اپنی بیٹی کو ایک لمبی موت کے لیے گام کے حوالے کرنا تھا۔ بہت دور کے دو ایک رشتہ دار ہوں گے۔ مگر نِکی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے خود کو اور زیادہ دور کرلیا تھا۔ گام کیسا ہے، یہ نِکی کے ماں باپ اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کی بیٹی ساری عمر روتی رہے گی، یہ بھی ان کو اچھی طرح معلوم تھا۔ مگر انھیں تو اپنی زندگی میں ایک فرض سے سبکدوش ہونا تھا۔ اور ایسے سبکدوش ہوئے کہ سارا بوجھ نِکی کے ناتواں کاندھوں پر ڈال گئے۔ طلاق لینے سے نِکی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کسی شریف سے نکاح کرنا چاہتی تھی۔ دوسری شادی کا اس کو کبھی خیال تک بھی نہ آیا تھا۔ طلاق ہونے کے بعد وہ کیا کرے گی، کیا نہیں کرے گی، اس کے متعلق بھی نِکی نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ اصل میں وہ ہر روز کی بک بک اور جھک جھک سے صرف ایک اطمینان کا سانس لینا چاہتی تھی۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا اس کو نِکی بخوشی برداشت کرنے کے لیے تیار تھی۔ لڑائی جھگڑے کا آغاز تو پہلے روز ہی سے ہو گیا تھا۔ جب نِکی دولہن بن کر گام کے گھرگئی تھی۔ لیکن طلاق کا سوال اس وقت پیدا ہوا تھا۔ جب وہ گام کے سدھار کے لیے دعائیں مانگ مانگ کر عاجز آگئی تھی اور اس کے ہاتھ اپنی یا اس کی موت کے لیے اٹھنے لگے تھے۔ جب یہ حیلہ بھی بے اثر ثابت ہوا تو اس نے اپنے شوہر کی منت سماجت شروع کی کہ وہ اسے بخش دے اور علیحدہ کردے، مگرقدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دس برس کے بعد تکیے میں ایک ادھیڑ عمر کی میراثن سے گام کی آنکھ لڑی اور ایک دن اس کے کہنے پر اس نے نِکی کو طلاق دے دی اور بیٹی پر بھی اپنا کوئی حق نہ جتایا۔ حالانکہ نِکی کو اس بات کا ہمیشہ د ھڑکا رہتا تھا کہ اگر اس کا شوہر طلاق پر راضی بھی ہو گیا تو وہ بیٹی کبھی اس کے حوالے نہیں کرے گا۔ بہرحال نِکی نچنت ہو گئی۔ اور ایک چھوٹی سی کوٹھڑی کرائے پر لے کر چین کے دن گزارنے لگی۔ اس کے دس برس اداس خاموشی میں گزرے تھے۔ دل میں ہر روز اس کے بڑے بڑے طوفان جمع ہوتے تھے مگر وہ خاوند کے سامنے اف تک نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے کہ اسے بچپن ہی سے یہ تعلیم ملی تھی کہ شوہر کے سامنے بولنا ایسا گناہ ہے جو کبھی بخشا ہی نہیں جاتا۔ اب وہ آزاد تھی اس لیے و ہ چاہتی تھی کہ اپنے دس برس کی بھڑاس کسی نہ کسی طرح نکالے۔ چنانچہ ہمسایوں سے اس کی اکثر لڑائی بھڑائی ہونے لگی۔ معمولی توں توں میں میں ہوتی جو گالیوں کی جنگ میں تبدیل ہو جاتی۔ نِکی پہلے جس قدر خاموش تھی۔ اب اسی قدر اس کی زبان چلتی تھی۔ منٹا منٹی میں وہ اپنے مدمقابل کی ساتوں پیڑھیاں پُن کر رکھ دیتی۔ ایسی ایسی گالیاں اور سٹھنیاں دیتی کہ حریف کے چھکے چھوٹ جاتے۔ آہستہ آہستہ سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی۔ یہاں کاروباری قسم کے مرد رہتے تھے۔ جو صبح سویرے اٹھ کر کام پر نکل جاتے اور رات دیر سے گھر لوٹتے۔ سارے دن میں عورتوں میں جو لڑائی جھگڑا ہوتا۔ اس سے وہ مرد بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔ ان میں سے شاید کسی کو پتا بھی نہیں تھا کہ نِکی کون ہے اور محلے کی ساری عورتیں اس سے کیوں دبتی ہیں۔ چرخہ کات کر، بچوں کے لیے گڑے گڑیاں بنا کر اور اسی طر کے چھوٹے موٹے کام کرکے وہ گزر اوقات کے لیے کچھ نہ کچھ پیدا کرلیتی تھی۔ طلاق لیے اسے قریب قریب ایک برس ہو چلا تھا۔ اس کی بیٹی بھولی اب گیارہ کے لگ بھگ تھی اور بڑی سرعت سے جوان ہورہی تھی، نِکی کو اس کے شادی بیاہ کی بہت فکر تھی۔ اس کے اپنے زیور تھے۔ جو ایک ایک کرکے گام نے چٹ کرلیے تھے۔ ایک صرف ناک کی کیل باقی رہ گئی تھی۔ وہ بھی گھس گھسا کر آدھی رہ گئی تھی۔ اسے بھولی کا پورا جہیز بنانا تھا اور اس کے لیے کافی روپیہ درکار تھا۔ تعلیم تھی، وہ اس نے اپنی طرف سے ٹھیک دی تھی۔ قرآن ختم کرادیا تھا۔ معمولی حرف شناسی کرلیتی تھی۔ کھانا پکانا خوب آتا تھا۔ گھر کے دوسرے کام کاج بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ چونکہ نِکی کو اپنی زندگی میں بہت تلخ تجربہ ہوا تھا۔ اس لیے اس نے بھولی کو خاوند کا اطاعت گزارہونے کے لیے کبھی اشارتاً بھی نہیں کہا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی سسرال میں چھڑکھٹ پربیٹھی راج کرے۔ ماں کے ساتھ جو کچھ بیتا تھا اس بپتا کا سارا حال بھولی کو معلوم تھا مگر ہمسایوں کے ساتھ جب نِکی کی لڑائی ہوتی تھی۔ تو وہ پانی پی پی کر اسے کوستی تھیں اور یہ طعنہ دیتی تھیں کہ وہ مطلقہ ہے جس کو خاوند نے صرف اس لیے علیحدہ کیا تھا کہ اس غریب کا نام میں دم کر رکھا تھا۔ اور بہت سی باتیں اپنی ماں کے کردار و اطوار کے متعلق اس کی سماعت میں آتی تھیں۔ مگر وہ خاموش رہتی تھی۔ بڑے بڑے معرکے کی لڑائیاں ہوتیں مگر وہ کان سمیٹے اپنے کام میں لگی رہتی۔ جب سارے محلے پر نِکی کی دھاک بیٹھ گئی تو کئی عورتوں نے مرعوب ہو کر اس کے پاس آنا جانا شروع کردیا۔ کئی اس کی سہیلیاں بن گئیں۔ جب ان کی اپنی کسی پڑوسن سے لڑائی ہوتی تو نِکی ساتھ دیتی اور ہر ممکن مدد کرتی۔ اسکے بدلے میں اس کو کبھی قمیض کے لیے کپڑا مل جاتا تھا۔ کبھی پھل، کبھی مٹھائی اور کبھی کبھی کوئی بھولی کے لیے سوٹ بھی سلوا دیتا تھا۔ لیکن جب نِکی نے دیکھا کہ ہر دوسرے تیسرے دن اسے محلے کی کسی نہ کسی عورت کی لڑائی میں شریک ہونا پڑتا ہے اور اس کے کام کاج کا حرج ہوتا ہے تو اس نے پہلے دبی زبان سے پھر کھلے لفظوں میں اپنا معاوضہ مانگنا شروع کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اپنی فیس بھی مقرر کرلی۔ معرکے کی جنگ ہو تو پچیس روپے۔ دن زیادہ لگیں تو چالیس۔ معمولی چخ کے صرف چار روپے اور دو وقت کا کھانا۔ درمیانے درجے کی لڑائی کے پندرہ روپے۔ کسی کی سفارش ہو تو وہ کچھ رعایت بھی کردیتی تھی۔ اب چونکہ اس نے دوسروں کی طرف سے لڑنا اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔ اس لیے اُسے محلے کی تمام عورتوں اور ان کی بہو بیٹیوں کے تمام فضیحتے یاد رکھنے پڑتے تھے۔ ان کا تمام حسب و نسب معلوم کرکے اپنی یادداشت میں محفوظ کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر اس کو معلوم تھا کہ اونچی حویلی والی سوداگر کی بوی جو اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی، ایک موچی کی بیٹی ہے اس کا باپ شہرمیں لوگوں کے جوتے گانٹھتا پھرتا تھا اور اس کا خاوند جو جناب شیخ صاحب کہلاتا ہے معمولی قصائی تھا۔ اسکے باپ پر ایک رنڈی مہربان ہو گئی تھی۔ وہ اسی کے بطن سے تھا اور یہ اونچی حویلی اس طوائف نے اپنے یار کو بنوا کر دی تھی۔ کس لڑکی کا کس کے ساتھ معاشقہ ہے۔ کون کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ کون کتنے حمل گرا چکی ہے۔ اس کا حساب سب نِکی کو معلوم تھا۔ یہ تمام معلومات حاصل کرنے میں وہ کافی محنت کرتی تھی۔ کچھ مصالحہ اس کو اپنے موکلوں سے مل جاتا تھا۔ اسے اپنی معلومات کے ساتھ ملا کر وہ ایسے ایسے بم بناتی کہ مد مقابل کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ ہوشیار وکیلوں کی طرح وہ سب سے وزنی ضرب صرف اسی وقت استعمال کرتی تھی۔ جب لوہا پوری طرح سرخ ہوتا۔ چنانچہ یہ ضرب سولہ آنے فیصلہ کن ثابت ہوتی تھی۔ جب وہ اپنے موکل کے ساتھ کسی محاذ پر جاتی تھی تو گھر سے پوری طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کے جاتی تھی، طعنے مہنوں اور گالیوں اور سٹھنیوں کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اشیاء بھی استعمال کرتی تھی۔ مثال کے طور پر گھسا ہوا جوتا۔ پھٹی ہوئی قمیض۔ چمٹا۔ پھکنی وغیرہ وغیرہ۔ کوئی خاص تشبیہہ دینی ہو یا کوئی خاص الخاص اشارہ یا کہنا یہ مطلوب ہو تو وہ اس غرض کے لیے کار آمد شے گھر ہی سے لے کر چلتی تھی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آج وہ جنتے کے لیے خیراں سے لڑی ہے۔ تو دو ڈھائی مہینے کے بعد اسی خیراں سے ڈبل فیس لے کر اسے جنتے سے لڑنا پڑتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ گھبراتی نہیں تھی۔ اسے اپنے فن میں اس قدر مہارت ہو گئی تھی اور اس کی پریکٹس میں وہ اتنی مخلص تھی کہ اگر کوئی فیس دیتا تووہ اپنی بھی دھجیاں بکھیر دیتی۔ نِکی اب فارغ البال تھی۔ ہر مہینے اسے اب اتنی آمدن ہونے لگی تھی کہ اس نے پس انداز کرکے اپنی بیٹی بھولی کا جہیز بنانا شروع کردیا تھا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اتنے گہنے پاتے اور کپڑے لتے ہوئے گئے تھے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی بیٹی کو ڈولی میں ڈال سکتی تھی۔ اپنے ملنے والیوں سے وہ بھولی کے لیے کوئی اچھا سا بر تلاش کرنے کی بات کئی مرتبہ کر چکی تھی۔ شروع شروع میں تو اس کو کوئی اتنی جلدی نہیں تھی، مگر بھولی سولہ برس کی ہو گئی۔ لوٹھا کی لوٹھا۔ قد کاٹھ کی چونکہ اچھی تھی۔ اس لیے چودھویں برس ہی میں پوری جوان عورت بن گئی تھی۔ سترھویں میں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی چھوٹی بہن ہے۔ چنانچہ اب نِکی کو دن رات اس کے بیاہ کی فکر ستانے لگی۔ نِکی نے بڑی دوڑ دھوپ کی۔ کوئی صاف انکار تو نہیں کرتا تھا۔ مگر دل سے حامی بھی نہیں بھرتا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ ہو نہ ہو لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ اس کی یہ صفت کہ لڑنے کے فن میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔ دراصل اس کے آڑے آرہی تھی۔ بعض گھروں میں تو وہ خود ہی سلسلہ جنیانی نہ کرتی کہ اس کی کسی عورت کا اس نے کبھی ناطقہ بند کیا تھا۔ دن پر دن چڑھتے جارہے تھے۔ اور گھر میں پہاڑ سی جوان بیٹی کنواری بیٹھی تھی۔ نِکی کو اپنے پیشے سے اب گھن آنے لگی اس نے سوچا کہ ایسا ذلیل کام کیوں اس نے اختیار کیا۔ مگر وہ کیا کرتی، محلے میںآرام چین کی جگہ پیدا کرنے کے لیے اسے پڑوسنوں کا مقابلہ کرنا ہی تھا۔ اگر وہ نہ کرتی تو اسے دب کے رہنا پڑتا۔ پہلے خاوند کے جوتے کھاتی تھی، پھر ان کی پیزار کی غلامی کرنی پڑی۔ یہ عجیب بات تھی کہ برسوں دبیل رہنے کے بعد جب اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور مخالف قوتوں کا مقابلہ کرکے ان کو شکست دی، یہ قومیں جھک کر اس کی امداد کی طالب ہوئیں کہ دوسری قوتوں کو شکست دیں اور اُس کو اس امداد پر کچھ اس طرح راغب کیا گیا کہ اس کوچسکا ہی پڑ گیا۔ اس کے متعلق وہ سوچتی تو اس کا دل نہ مانتا تھا۔ کیوں کہ اس نے صرف بھولی کی خاطر اس پیشے کوجسے اب لوگ ذلیل سمجھنے لگے تھے اختیار کیا تھا۔ یہ بھی کم عجیب چیز نہیں تھی۔ نِکی کو روپے دے کر کسی عورت پر انگلی رکھ دی جاتی تھی۔ اور اس سے کہا جاتا تھا کہ وہ اس کی ساتوں پیڑھیاں پن ڈالے۔ اس کے آباؤ اجداد کی ساری کمزوریاں ماضی کے ملبے سے کرید کرید کر نکالے اور اس کے وجود پر چھید کردے۔ نِکی یہ کام بڑی ایمانداری سے کرتی وہ گالیاں جو ان کے منہ میں ٹھیک نہیں بیٹھی تھیں اپنے منہ میں بٹھائی۔ ان کی بہو بیٹیوں کے عیوب پر پردے ڈال کر وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں میں کیڑے ڈالتی۔ غلیظ سے غلیظ گالیاں اپنے ان موکلوں کی خاطر خود بھی کھاتی۔ پر اب کہ اس کی بیٹی کے بیاہ کا سوال آیا تھا وہ کمینی نیچ اور رذیل بن گئی تھی۔ ایک دو مرتبہ تو اس کے جی میں آئی کہ محلے کی ان تمام عورتوں کو جنہوں نے اس کی بیٹی کو رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ بیچ چوراہے میں جمع کرے اور ایسی گالیاں دے کہ ان کے دل کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں مگر وہ سوچتی کہ اگر اس نے یہ غلطی کردی تو غریب بھولی کا مستقبل بالکل تیرہ و تار ہو جائے گا۔ جب چاروں طرف سے مایوسی ہوئی تو نِکی نے شہر چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ایک طرف یہی راستہ تھا۔ جس سے بھولی کی شادی کا کٹھن مرحلہ طے ہو سکتاتھا چنانچہ اس نے ایک روز بھولی سے کہا۔

’’بیٹا، میں نے سوچا ہے کہ اب کسی اور شہر میں جا رہیں۔ ‘‘

بھولی نے چونک کر پوچھا۔

’’کیوں ماں!‘‘

’’بس اب یہاں رہنے کو جی نہیں چاہتا۔ ‘‘

نِکی نے اس کی طرف ممتا بھری نظروں سے دیکھا اور کہا۔

’’تیرے بیاہ کی فکر میں گُھلی جارہی ہوں۔ یہاں بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ تیری ماں کو سب رذیل سمجھتے ہیں۔ ‘‘

بھولی کافی سیانی تھی، فوراً نِکی کا مطلب سمجھ گئی اس نے صرف اتنا کہاں

’’ہاں ماں!‘‘

نِکی کو ان دو لفظوں سے سخت صدمہ پہنچا۔ بڑے دکھی لہجے میں اس نے بھولی سے سوا کیا۔

’’کیا تو بھی مجھے رذیل سمجھتی ہے؟‘‘

بھولی نے جواب نہ دیا اور آٹا گوندھنے میں مصروف ہو گئی۔ اُس دن نِکی نے عجیب عجیب باتیں سوچیں۔ اس کے سوال کرنے پر بھولی خاموش کیوں ہو گئی تھی۔ کیا وہ اسے واقعی رذیل سمجھتی ہے کیا وہ اتنا بھی نہ کہہ سکتی تھی کہ

’’نہیں ماں‘‘

کیا یہ باپ کے خون کا اثر تھا؟ بات میں سے بات نکل آتی اور وہ بہت بری طرح ان میں الجھ جاتی۔ اسے بیتے ہوئے دس برس یاد آتے۔ بیاہی زندگی کے دس برس جس کا ایک ایک دن مار پیٹ اور گالی گلوچ سے بھرا تھا۔ پھر وہ اپنی نظروں کے سامنے مطلقہ زندگی کے دن لاتی۔ ان میں بھی گالیاں ہی گالیاں تھیں جو وہ پیسے کی خاطر دوسروں کو دیتی رہی تھی۔ تھک ہ ار کر وہ بعض اوقات کوئی سہارا ٹٹولنے لگتی اور سوچتی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ طلاق نہ لیتی۔ آج بیٹی کا بوجھ گام کے کندھوں پر ہوتا۔ نکھٹو تھا۔ پرلے درجے کا ظالم تھا۔ عیبی تھا۔ مگر بیٹی کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ کرتا۔ یہ اس کے عجز کی انتہا تھی۔ پرانی ماریں، اور ان کے دبے ہوئے درد اب آہستہ آہستہ نِکی کے جوڑوں میں ابھرنے لگے۔ پہلے اس نے کبھی اُف تک نہیں کی تھی۔ بر اپ اٹھتے بیٹھتے ہائے ہائے کرنے لگی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت ایک شور سا برپا ہونے لگا۔ جیسے ان کے پردوں پر وہ تمام گالیاں اور سٹھنیاں ٹکرا رہی ہیں جو ان گنت لڑائیوں میں اس نے استعمال کی تھیں۔ عمر اس کی زیادہ نہیں تھی۔ چالیس کے لگ بھگ تھی۔ مگر اب نِکی کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ بوڑھی ہو گئی ہے اس کی کمر جواب دے چکی ہے اس کی زبان جو قینچی کی طرح چلتی تھی۔ اب کُند ہو گئی ہے۔ بھولی سے گھر کے کام کاج کے متعلق معمولی سی بات کرتے ہوئے اس کو مشقت کرنی پڑتی تھی۔ نِکی بیمار پڑ گئی اور چارپائی کے ساتھ لگ گئی۔ شروع شروع میں تووہ اس بیماری کا مقابلہ کرتی رہی۔ بھولی کو بھی اس نے خبر نہ ہونے دی کہ اندر ہی اندر کونسی دیمک اسے چاٹ رہی ہے۔ لیکن ایک دم وہ ایسی نڈھال ہوئی کہ اس سے اٹھا تک نہ گیا۔ بھولی کو بہت تشویش ہوئی۔ اس نے حکیم کو بلایا۔ جس نے نبض دیکھ کر بتایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں، پرانا بخار ہے۔ علاج سے دور ہو جائیگا۔ علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ بھولی سعادت مند بیٹیوں کی طرح ماں کی ہر ممکن خدمت بجا لا رہی تھی۔ اس سے نِکی کے دکھی دل کو کافی تسکین ہوتی تھی۔ مگر مرض دور نہ ہوا۔ بخار پہلے سے تیز ہو گیا۔ اور آہستہ آہستہ نِکی کی بھوک غائب ہو گئی۔ جس کے باعث وہ بہت ہی لاغر اور نحیف ہو گئی۔ عورتوں میں ایک خداداد وصف ہوتا ہے کہ مریض کی شکل دیکھ کرہی پہچان لیتی ہیں کہ وہ کتنے دن کا مہمان ہے ایک دو عورتیں جب بیمار پرسی کے لیے نِکی کے پاس آئیں تو انھوں نے اندازہ لگایا کہ وہ بمشکل دس روز نکالے گی چنانچہ یہ بات سارے محلے کو معلوم ہو گئی۔ کوئی بیمارہو۔ مرنے کے قریب ہو۔ تو عورتوں کے لیے ایک اچھی خاصی تفریح کا بہانہ نکل آتا ہے۔ گھر سے بن سنور کر نکلتی ہیں اور مریض کے سرہانے بیٹھ کر اپنے تمام مرحوم عزیزوں کو یاد کرتی ہیں ان کی بیماریوں کا ذکر ہوتا ہے وہ تمام علاج بیان کیے جاتے ہیں جو لاعلاج ثابت ہوئے تھے۔ گفتگو کا رخ پلٹ کر قمیضوں کے نئے ڈیزائنوں کی طرف آجاتا ہے۔ نِکی ایسی باتوں سے بہت گھبراتی تھی۔ لیکن وہ خود چونکہ مریضوں کے سرہانے ایسی ہی باتیں کرتی رہی تھی اس لیے مجبوراً اسے یہ خرافات سننی پڑتی تھی۔ ایک روز جب محلے کی بہت سی عورتیں اس کے گھر میں جمع ہو گئیں تو اس احساس نے اس کو بہت مضطرب کیا کہ اب اس کا وقت آچکا ہے ان میں سے ہر ایک چہرے پر یہ فیصلہ مرقوم تھا کہ نِکی کے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے۔ جو عورت آتی۔ اپنے ساتھ یہ کھٹ کھٹ لاتی تنگ آکر کئی دفعہ نِکی کے جی میں آئی کہ کنڈی کھول دے اور دستک دینے والے فرشتے کو اندر بلالے۔ ان بیمار پرس عورتوں کو سب سے بڑا افسوس بھولی کا تھا۔ نِکی سے وہ بار بار اس کا ذکر کرتیں کہ ہائے اس بیچاری کا کیا ہو گا۔ دنیا میں غریب کی صرف ایک ماں ہے۔ وہ بھی چلی گئی تو اس کا کیا ہو گا۔ پھر وہ اللہ میاں سے دعا کرتیں کہ وہ نِکی کی زندگی میں چند دنوں کا اضافہ کردے تا کہ وہ بھولی کی طرف سے مطمئن ہوکر مرے۔ نِکی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ دعا بالکل جھوٹی ہے۔ انھیں بھولی کا اتنا خیال ہوتا تو وہ اس کے رشتے سے انکار کیوں کرتیں۔ صاف انکار نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ یہ دُنیا داری کے اصول کے خلاف تھا۔ مگر کسی نے حامی نہیں بھری تھی۔ وہ چھوٹا سا کمرہ جس میں نِکی چارپائی پر پڑی تھی، بیمار پرس عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ بھولی نے ان کے بیٹھنے کا انتظام ایسا معلوم ہوتا ہے پہلے ہی سے کر رکھا تھا۔ پیڑھیاں کم تھیں، اس لیے اس نے کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھا دی تھی۔ بھولی کے اس اہتمام و انتظام سے نِکی کو بڑا صدمہ پہنچا تھا گویا وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح اس کی موت کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ بخار تیز تھا، دماغ تپا ہوا تھا۔ نِکی نے اوپر تلے بہت سی تکلیف دہ باتیں سوچیں تو بخار اور زیادہ تیز ہو گیا اور اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی۔ جلدی جلدی بے جوڑ باتیں کرنے لگی۔ بیمار پرس عورتوں نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ جو اٹھ کر جانے والی تھیں نِکی کا وقت قریب دیکھ کر بیٹھ گئیں۔ نِکی بکے جارہی تھی۔ ایسا معلوم تھا کہ وہ کسی سے لڑ رہی ہے۔

’’میں تیری ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ جو کچھ تو نے میرے ساتھ کیا ہے۔ وہ کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔ میں نے اپنے خاوند کی دس برس غلامی کی۔ اس نے مار مار کر میری کھال اور ادھیڑ دی۔ پر میں نے اُف تک نہ کی۔ اب تو نے۔ اب تو نے مجھ پر یہ ظلم شروع کیے ہیں۔ ‘‘

پھر وہ کمرے میں جمع شدہ عورتوں کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی۔

’’تم۔ تم یہاں کیا کرنے آئی ہو۔ نہیں نہیں۔ میں کسی فیس پر بھی لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ تم میں سے ہر ایک کے عیب وہی ہیں۔ پرانے۔ صدیوں کے پرانے جو کیڑے۔ جو کیڑے پھاماں میں ہیں وہی تم سب میں ہیں۔ تم میں سے قریب قریب ہر ایک کا خصم رنڈی باز ہے۔ جو بری بیماری پھاتو کے خاوند کو لگی ہے۔ وہی جنتے کے گھر والے کو چمٹی ہوئی ہے۔ تم سب کوڑھی ہو۔ اور یہ کوڑھ تم نے مجھے بھی دے دیا ہے۔ لعنت ہو تم سب پر خدا کی۔ خدا کی۔ خدا۔ ‘‘

اور وہ ہنسنے لگتی۔

’’میں اس خدا کو بھی جانتی ہوں۔ اس کی ہشت پشت کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ کیا دنیا بنائی ہے تو نے۔ یہ دنیا جس میں گام ہیں۔ جس میں پھاماں ہے جو اپنے خاوند کو چھوڑ کر دوسروں کے بستر گرم کرتی ہے۔ اور مجھے فیس دیتی ہے۔ بیس روپے گن کر میرے ہاتھ پر رکھتی ہے کہ میں نورفشاں کے پرانے یارانوں کا پول کھولوں۔ اور فشاں میرے پاس آتی ہے کہ نکی یہ پانچ زیادہ لو اور جاؤ امینہ سے لڑو۔ وہ مجھے ستاتی ہے۔ یہ کیا چکر چلایا ہوا ہے تو نے اپنی دنیا میں۔ میرے سامنے آ۔ ذرا میرے سامنے آ۔ ‘‘

آواز نِکی کے حلق میں رکنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد گھنگرو بجنے لگا۔ تشنج سے وہ پیچ وہ تاب کھا رہی تھی اور ہذیانی کیفیت میں چلا رہی تھی۔

’’گام مجھے نہ مار۔ اوگام۔ اور خدا مجھے نہ مار۔ او خدا۔ اوگام‘‘

او خدا او گام بڑبڑاتی آخر نِکی بیمار پرس عورتوں کے اندازے کے عین مطابق مر گئی۔ بھولی جو ان عورتوں کی خاطر داری میں مصروف تھی۔ پانی کا گلاس ہاتھ سے گرا کر دھڑا دھڑ اپنا سر پیٹنے لگی۔ 14-15 اکتوبر1951ء

سعادت حسن منٹو