ہم جسم

در پیش ہمیں

چشم و لب و گوش

کے پیرائے رہے ہیں

کل رات

جو ہم چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

غزلائے رہے ہیں

کس آس میں

کجلائے رہے ہیں؟

اس میں کو

جو ہم جسموں میں

محبوس ہے

آزاد کریں

کیسے ہم آزاد کریں؟

کون کرے؟ ہم؟

ہم جسم

ہم جسم کہ کل رات

اسی چاند میں

اس سبزے پہ

ان سایوں میں

خود اپنے کو

دہرائے رہے ہیں؟

کچھ روشنیاں

کرتی رہیں ہم سے

وہ سرگوشیاں

جو حرف سے

یا صوت سے

آزاد ہیں

کہہ سکتی ہیں

جو کتنی زبانوں میں

وہی بات، ہر اک رات

سدا جسم

جسے سننے کو

گوشائے رہے ہیں

ہم جسم بھی

کل رات کے

اک لمحے کو

دل بن کے

اسی بات سے

پھر سینوں میں

گرمائے رہے ہیں

اس میں کو

ہم آزاد کریں؟

رنگ کی، خوشبوؤں کی

اس ذات کو

دل بن کے

جسے ہم بھی

ہر اک رات

عزیزائے رہے ہیں؟

یا اپنے توہمات کی

زنجیروں میں

الجھائے رہے ہیں

اس ذات کو

جس ذات کے

ہم سائے رہے ہیں؟

ن م راشد