گرد باد

ن م راشد

مجموعہ کلام لا انسان

غم کے دَندانے بہت!

گرد باد اِک موج پرّاں، گرد باد اِک ہمہمہ،

گرد باد اِک سایہ ھے،

گرد بادِ غم کے دَندانے بہت!

اس کی اِک آواز، اِک پُھنکار ویرانے بہت!

اس کی آوازوں میں بام و دَر بھی گُم

ریگِ بے مہری سے پُر سینوں کے پیمانے بہت!

شہرِ تنہا اور برہنہ شہر

جن کا کام جاری تھا ابھی،

جن کی صُبحوں میں اَذاں کا نام جاری تھا ابھی،

ایک ھی صُبحِ اَذاں، صُبحِ اجل!

جن کی جولانی کا دورِ جام جاری تھا ابھی،

ھاں اُنہی کی شاہراھوں کا ضمیر

بے صدائی میں اسیر

ھانپتا پھرتا ھے خوُں آلوُد دہلیزوں کے پاس

اُس کی دلجوئی کو دردِ دِل کے کاشانے بہت!

اور تمناؤں کے واماندہ شجر

حیرت آسا خامشی میں تن دہی سے اشک ریز:

گرد بادِ غم کے نقشِ پا کہاں!

اِس کا پائے لنگ ھو اس کا سہارا تابکے؟

اس کو ویرانی کا یارا تابکے؟

اس کے افسانے بہت!

ن م راشد