گداگر

جن گزرگاہوں پہ دیکھا ہے نگاہوں نے لُہو

یاسیہ عورت کی آنکھوں میں یہ سہم

کیا یہ اونچے شہر رہ جائیں گے بس شہروں کا وہم

مَیں گداگر اور مرا دریوزہ فہم!

راہ پیمائی عصا اور عافیت کوشی گدا کا لنگِ پا

آ رہی ہے ساحروں کی، شعبدہ سازوں کی صبح

تیز پا، گرداب آسا، ناچتی، بڑھتی ہوئی

اک نئے سدرہ کے نیچے، اِک نئے انساں کی ہُو

تا بہ کے روکیں گے ہم کو چار سُو؟

کیا کہیں گے اُس نئے انساں سے ہم

ہم تھے کُچھ انساں سے کم؟

رنگ پر کرتے تھے ہم بارانِ سنگ

تھی ہماری ساز و گُل سے، نغمہ و نکہت سے جنگ

آدمی زادے کے سائے سے بھی تنگ؟

ن م راشد