کلام ہنس نہیں رہا

کلام ہنس نہیں رہا

کلام کس طرح ہنسے؟

ہمارے اِن پِٹے لطیفوں پر جو ہم اِسے

سنا چکے ہیں بار ہا

کلام کس طرح ہنسے

کلام اب پگھل رہا ہے رفتہ رفتہ

ان دلوں کی شمع کی طرح

جو جل چکے، جلا چکے ۔۔۔

کلام جس کا ذکر کر رہے ہیں ہم

عجیب بات ہے کلام بھی نہیں

مگر اِسے کلام کے سوا کہیں تو کیا کہیں؟

کہ اس کا اور کوئی نام بھی نہیں!

ہم اس پہ کچھ فدا نہیں مگر اِسے

جو رد کریں تو کیوں کریں؟

کہ یہ ہمارے جسم و جاں کو پالتا رہا

ہمارے ذہن و دل کو سالہا سے ڈھالتا رہا ۔۔۔

یہ اب بھی ڈھالتا ہے اور ڈھالتا رہے گا

اور ہم یہ چاہتے بھی ہیں!

کلام ایک قرب ہے،

ہمیشہ بُعد کو پکارتا رہا ۔۔۔

سمندروں کو دیکھتے ہو تم

وہ کس طرح سمندروں کے بُعد کو پکارتے ہیں رات دن؟

اسی لیے صدائے مرگ

سُن کے اپنے باطنِ نحیف میں

ہم آپ کر اُٹھے ہیں پھر سے ہستِ نو کی آرزو ۔۔۔

وہ رات جو کبھی سیاہ جنگلوں کو ۔۔۔

جنگلوں کی آنکھ سے چھپی ہوئی

مہورتوں کو چاٹتی رہی

وہ اب دلوں کو چاٹتی ہے، اُن دلوں

کو جن میں پھر سے جاگ اٹھی

حیاتِ نو کی آرزو ۔۔

وہ رات جس کے چاوشوں نے دیکھ پائے

وحشیِ قدیم کے نشانِ پا

جو شرق و غرب میں نکل پڑا ہے

چور کی دلاوری لیے ۔۔۔

ہم اپنے ماضیِ قریب کو مٹا تو دیں

۔۔۔ مٹانا چاہتے بھی ہیں مگر ۔۔۔

یہ دیکھتے ہو تم

خفیف سی صدا اٹھی، وہ ہانپنے لگے

وہ خوف ہانکنے لگے

وہ اپنے ناخنوں کے جنگلوں سے

ہم کو جھانکنے لگے؟

وہ رات جو سیاہ جنگلوں کو چاٹتی رہی

وہ آج ہم پہ ایسے آئی ہے کہ جیسے آئےرات

کمسنوں پہ جو کسی بڑے فِرج میں ناگہاں

اسیر ہو کے رہ گئے!

ہم آدمی کو پھر سے زندہ کر سکیں گے گیا؟

۔۔ ۔ مگر وہ مرحلے

فسانہ و فسوں کے صد ہزار مرحلے

جو راہ میں پھر آئیں گے؟

تباہی! یہ بتا کہ اور مرحلہ بھی ہے

کہ جس کو پار کر سکے گا آدمی؟

وہ دیکھ وحشیِ قدیم جو لہو سے

سوچتا رہا سدا

پھر آج رنگ و نور سے الجھ پڑا ۔۔۔

اُسی کا نغمہ ہے

جو سُن رہے ہیں ریڈیو سے ہم

دھرم دھما دھما دھرم دھما دھرم ۔۔۔

بتا وہ راستہ کہاں ہے جس سے پھر

جنوں کے خواب،

یا خرد کے خواب،

یا سکوں کے خواب

لوٹ آئیں گے

بتا وہ راستہ کہاں؟

ن م راشد