چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

کئ لذّتوں کا ستم لئے

جو سمندروں کے فسوں میں ہیں

مرا ذہن ہے وہ صنم لیے

وہی ریگ زار ہے سامنے

وہی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئینے

کسی دست غیب سے ٹوٹ کر

رہ تار جاں میں بکھر گئے!

ابھی آ رہا ہوں سمندروں کی مہک لیے

وہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میں

ہے ہزار رنگ سے خواب ہائے خنک لیے

چلا آرہا ہوں سمندروں کا نمک لیے

یہ برہنگی عظیم تیری دکھاؤں میں

(جو گدا گری کا بہانہ ہے)

کوئی راہرو ہو تو اس سے راہ کی داستاں

میں سنوں، فسانہ سمندروں کا سناؤں میں

(کہ سمندروں کا فسانہ عشق کی گسترش کا فسانہ ہے)

یہ برہنگی جسے دیکھ کر بڑہیں دست و پا، نہ کھلے زباں

نہ خیال ہی میں رہے تواں

تو وہ ریگ زار کہ جیسے رہزن پیر ہو

جسے تاب راہزنی نہ ہو

کہ مثال طائر نیم جاں

جسے یاد بال و پری نہ ہو

کسی راہرو سے امّید رحم و کرم لیے

میں بھرا ہوا ہوں سمندروں کے جلال سے

چلا آرہا ہوں میں ساحلوں کا حشم لیے

ھے ابھی انہی کی طرف مرا درِدل کھلا

کہ نسیم خندہ کو رہ ملے

مری تیرگی کو نگہ ملے

وہ سرور و سوز صدف ابھی مجھے یاد ہے

ابھی چاٹتی ہے سمندروں کی زباں مجھے

مرے پاؤں چھو کے نکل گئ کوئی موج ساز بکف ابھی

وہ حلاوتیں مرے ہست و بود میں بھر گئ

وہ جزیرے جن کے افق ہجوم سحر سے دید بہار تھے

وہ پرندے اپنی طلب میں جو سر کار تھے

وہ پرندے جن کی صفیر میں تھیں رسالتیں

ابھی اس صفیر کی جلوتیں مرے خوں میں ہیں

ابھی ذہن ہے وہ صنم لیے

جو سمندروں کے فسوں میں ہے

چلا آ رھا ہوں سمندروں کے جمال سے

صدف و کنار کا غم لیے

ن م راشد