پہلی کرن

کوئی مجھ کو دُور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو

کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستیِ رائیگاں سے؟

کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر

عبث بن رہا ہہے ہمارا لہو مومیائی

میں اُس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے، نانِ

شبینہ نہیں ہے

اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکتِ باستاں سے

اور اب بھی ہے امیدِ فردا کسی ساحرِ بے نشاں سے

مری جاں، شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوں

میں اس خشت کوبی سے اُکتا گیا ہوں

کہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیں

جنھوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھا؟

تری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائے

جسے پی کے سو جائے ننھی سی جاں

جو اِک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینہ ءِ مہرباں سے

جو واقف نہیں تیرے دردِ نہاں سے؟

اسے بھی تو ذلت کی پایندگی کے لیے آلہ ءِ کار بننا پڑے گا

بہت ہے کہ ہم اپنے ابا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں

آج بے دست و پا ہیں

اس آئیندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں

مگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھی

یہ شہنائیاں سُن رہی ہو؟

یہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائی

نہیں، اس دریچے کے باہر تو جھانکو

خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے

اُسی ساحرِ بے نشاں کا

جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھا

یہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں، سُن لو

یہی ہے نئے دور کا پرتوِ اولیں بھی

اٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میں

مل کے دھومیں مچائیں

شعاعوں کے طوفاں میں بے محابا نہائیں

ن م راشد