نئے گناہوں کے خوشے

ندی کنارے درخت

بلّور بن چکے ہیں

درخت، جن کی طناب شاخوں

پہ مرگِ ناگاہ کی صدا

رینگتی رہی تھی

درخت بلّور کی صلیبیں

لہو میں لتھڑے ہوئے زمانوں

میں گڑ گئی ہیں!

ہَوا جو فرماں کی پیروی میں

کبھی انھیں گدگدانے آئے

یہ اپنی افسوں زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں

مگر ہوا کے لیے کبھی سر نہیں جھکاتے!

کہو، یہ سچ ہے

کہ اب بھی بارش میں اِن کے آنسو

سکوت بن کر پکارتے ہیں؟

نکلتے سورج کو دیکھتے ہی

یہ ستر اپنا، عیوب اپنے سنوارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

روایت کی لوریوں نے

کلام کی روشنی کو اِن پر

سلا دیا ہے!

کہو یہ سچ ہے

کہ ان کی آنکھوں

کی بجلیاں اب بھی گھومتی ہیں؟

غروب ہوتے افق کے شہروں کے بام و در کو

سراب ہونٹوں سے چومتی ہیں

نہیں ۔۔

کہ الہام کی سخاوت کے ہاتھ

اِن تک رسا نہیں ہیں!

کہو، یہ سچ ہے

ابھی پرندے رسول بن کر

دلوں پر اِن کے

اِک آنے والے وصال کے خواب اتارتے ہیں؟

خیال جو دور دور سے وہ سمیٹ لائے

تمام اِن پر نثارتے ہیں؟

نہیں ۔۔

پرندوں کے ۔۔ اِن رسولوں کے ۔۔۔

خواب اپنے،

خیال اپنے،

غضب کے ٹھنڈے الاؤ میں جان

دے چکے ہیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کِسی دن۔۔

کہ ہر نئے راہرو سے پہلے

نئی طلب کے فشار اِن کے

سمور جسموں کو چاک کر دیں!

تو شاید ایسا بھی ہو کسی دن ۔۔

نئے گناہوں کے تازہ خوشوں

سے کھیتیوں کے مشام بھر دیں

وہ خوشے جن سے تمام چہرے

طلوع ہوتے ہیں ہر تہجد کی لو سے پہلے

وہ خوشے جن سے تمام بوسے

نسیم کی دل نوازیِ نو بنو سے پہلے!

ن م راشد