میں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

سالہا سال میں گر ہم نے رسائی پائی

کسی شے تک تو فقط اس کے نواحی دیکھے

اس کے پوشیدہ مناظر کے حواشی دیکھے

یا کوئی سلسلہ ءِ عکسِ رواں تھا اِس کا

ایک روئے گزراں تھا اس کا

کوہِ احساس پر آلام کے اشجار بلند

جن میں محرومئ دیرینہ سے شادابی ہے

برگ و باراں کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسی افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں

کبھی ارمانوں کے آوارہ سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے ہیں سستاتے ہیں

اور پھر شوق کے صحراؤں کو اڑ جاتے ہیں

شوق کے گرم بیاباں کہ ہیں بے آب و گیاہ

ولولے جن میں بگولوں کی طرح گھومتے ہیں

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے ہیں

دُور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس میں انہی صحراؤں کے خواب

ان کہستانوں کی روحیں ۔۔ سرو رو بستہ ہیں

اولّیں نقش ہیں آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور امیدوں کے جنین

اور بگولوں کے ہیولے

کسی نقّاش کی حسرت میں ملول

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی ہے

آج تک دشت نوردوں سے جہاں گردوں سے

کون اس دشتِ گریزاں کی خبر لاتا ہے!

ن م راشد