میں کیا کہہ رہا تھا؟

میں تنہائی میں کر رہا تھا

پرندوں سے باتیں

میں یہ کہہ رہا تھا

پرندو، نئی حمد گاؤ

کہ وہ بول جو اک زمانے میں

بھونروں کی بانہوں پہ اڑتے ہوئے

باغ کے آخری موسموں تک پہنچتے تھے

اب راستوں میں جھلسنے لگے ہیں

نئی حمد گاؤ!

پرندے، لگاتار، لیکن

پرندے ہمیشہ سے اپنے ہی عاشق

سراسر وہی آسماں چیختے تھے!

میں یہ کہہ رہا تھا

گناہ گار دل!

کون جانے کہ کس ہاتھ نے

ہمیں اپنی یادوں کی لمبی قطاروں

کی زنجیر میں

کب سے بے دست و پا کر دیا ہے؟

وہ ماضی، کبھی ہانپتے تھے

جو گھوڑوں کے مانند

اب نافراموش گاڑی کے صحنوں میں

لنگڑا رہے ہیں!

میں یہ کہہ رہا تھا

مرے عشق کے سامنے

جنتری کے وقت

اب زیادہ نہ پلٹو

کہ یہ آئنوں کے طلسموں کی مانند

تاریخ کو بارہا رٹ چکی ہے،

مگر دل کا تنہا پیمبر

کبھی اپنی تکرار کا ہمہمہ گائے

ممکن نہیں

کبھی اپنی ہی گونج بن جائے

ممکن نہیں

وہی میرے دل کا پیمبر

کہ جس نے دیا ایسا روشن کیا

کہ راتوں کی نیندیں اچٹنے لگیں

وہ خود کو الٹ کر پلٹ کر پرکھنے لگیں

میں یہ کہہ رہا تھا

سناتی ہیں جب شہر میں بلیاں

اپنی جفتی کی معصوم باتیں

تو جنگل کے ہاتھی

(مقدس درختوں کے ریشوں میں الجھے ہوئے)

کیوں اگلتے ہین دن رات

آیات کی فربہی

کہ ان بلیوں کے گناہ گار، معصوم دل

سہم جائیں؟

میں یہ کہہ رہا تھا

درختو، ہواؤں کو تم کھیل جانو

تو جانو

مگر ہم نہیں جانتے بوڑھے سبزے

کی دعوت کو جاتے ہوئے

ذہن کی رہگزاروں میں کیسے

نئے دن کی دزدیدہ آہٹ کبھی سن سکیں گے؟

نہیں صرف پتھر ہی بے غم ہے پتھر کی ناتشنگی پر!

درختو، ہوا کتنی تیزی سے گزری

تمہارے برہنہ بدن سے

کہ اس میں روایات

سرگوشیاں کر رہی تھیں

درختو، بھلا کس لیے نام اپنا

کئی بار دہرا رہے ہو

یہ شیشم، یہ شم شی، یہ شی شی ی ی ی ۔۔۔

مگر تم کبھی شی ی ی ر ۔۔۔ بھی کہہ سکو گے؟

میں یہ کہہ رہا تھا

ن م راشد