مہمان

میں اس شہر مہمان اترا

تو سینے میں غم اور آنکھوں میں آنسو کے طوفاں

جدائی سے ہر چیز، حسنِ ازل تک وہ پردہ

کہ جس کے ورا حیرتِ خیرگی تھی!

جدائی سے تو بھی حزیں

اور ترا زخم مجھ سے بھی گہرا تھا خوں دادہ تر تھا!

میں مبہم سی امید تو ساتھ لایا تھا لیکن

تو اک شاخسارِ شکستہ کے مانند بے آرزو!

۔۔۔ وہ بے آرزوئی کا گہرا خلا جس کو میں نے

کبھی ذہنِ بے مایہ جانا

کبھی خوف و نفرت کے عفریت کا سایہ جانا!

تجھے یاد محبوب کا نرم راحت سے لبریز بالش

تجھے یاد کمرے کے شام و پگا، جن میں تو نے

ستاروں کے خوشوں کی آواز دیکھی

بنفشے کے رنگوں کو تُو نے چکھا

اور بہشتی پرندوں کے نغموں کو چھوتی رہی

تجھے اس کی پرواز کی آخری رات بھی یاد تھی۔۔

لذت و غم سے بے خواب لمحے

جو صدیوں سے بھرپور، صدیوں کی

پہنائی بنتے چلے جا رہے تھے!

ادھر میں مہجور، افسردہ، تنہا

وہ شبنم کا قطرہ

جو صحرا میں نازل ہو لیکن

سمندر سے ملنے کا رویا لیے ہو!

میں افسردہ، مہجور، تنہا

کہ محبوب سے بُعد کو نور کے سالہا سال سے

ناپتا آ رہا تھا،

مگر نور کے سال اِک خطِّ پیمانہ بھی تو

نہیں بن سکے تھے!

نئی سر زمیں کے نئی اجنبی،

تجھے میں نے اک خواب پیما کی آنکھوں سے دیکھا

کہ اس روز تجھ کو عیاں دیکھنا

ایسا الحاد ہوتا

کہ جس کی سزا جسم و جہاں سہہ نہ سکتے!

مگر میرے دل نے کہا

اجنبی شہر کی خلوتِ بے نہایت میں تُو بھی

کسی روز بن کر رہے گی

ستم ہائے تازہ کی خواہش کا پرتو!

زخود رفتگی سے، اشاروں سے، ترغیب وا سے

تجھے میں بلاتا رہا تھا

تُو آہستہ، خاموش بڑھنے لگی تھی

کہ یادیں ابھی تک ترے دل میں یوں گونجتی تھیں

کہ ہم گوش بر لب سہی،

سُن نہ سکتے تھے اک دوسرے کی صدائیں

مگر جب ملے ہم تو ایسے ملے

وہ تری خود نگہداریاں کام آئیں

نہ میرا تذبذب مجھے راس آیا

ہم ایسے ملے جیسے صدیوں کے مہجور

آدم کے جشنِ ولادت کے مہجور

باہم ابد میں ملیں گے!

ن م راشد