طوفان اورکرن

شب تم اس قلعے کے ناجشن میں

موجودنہ تھے

(شادرہو!)

کیسی طوفان کی شوریدہ سری تھی، توبہ!

کس طرح پردے کیے چاک

گرائے فانوس

اورہردرزمیں غرّاتارہا!

ڈگمگاتے ہوئے مہمان

ضیافت کی صفوں سے گزرے

پاؤں تک رکھتے نہ تھے

دل کے قالینوں کے

رنگ وخط ومحراب کو

تکتے بھی نہ تھے!

آکے ٹھہری ہے لبِکاسہ ءِ جاں

یادکے جنگلِ افسردہ سے

بچتی ہوئی اک تازہ کرن

پرجھپکتی بھی نہیں

اور۔۔۔اُس آنکھ کوجوکاسہ ءِ جاں میں

وا ہے

ابھی تکتی بھی نہیں۔۔۔۔

(یہی وہ کاسہ ءِ جاں

جس میں جلائی ہیں گُلوں کی شمعیں،

جس میں سورنگ سے کل رات کے مانند

منائی ہیں خدائی راتیں!)

اے کرن،

شکرکہ ہم

ہجر کے زینوں پہ یا

وصل کے آئینوں پہ

جم جاتے نہیں!

اور۔۔۔بیکارہیولاؤں کے ساتھ

بہتی مالاؤں پہ تھم جاتے نہیں

جن میں نادیدہ ملاقات کی سرگوشی ہو

ایسے گوشوں میں بھی ہم جاتے نہیں!

کل تم اس قلعے کے ناجشن میں موجود نہ تھے

اورنہ تم سن ہی سکے

کیسی دوشیزہ وہ دستک تھی

جسے سن نہ سکے

اس کے مژگاں کی لب وچشم کی پیہم دستک!

ایسی دوشیزہ

کہ افلاس کے ناشہروں کی رہنے والی

وہ اترتی ہی گئی

زینوں سے

دیواروں سے

تاحدِّغبار

تم کہ تھے سیرنگاہ اپنے توہّم پہ سوار

اس کی آوازکہیں سن نہ سکے!

اب بھی وہ قلعہ ءِ عرفاں کے دریچے کے تلے

دیتی رہتی ہے دبی پیاس کی دستک شب وروز

اے کرن،

اس کے لیے قطرہ ءِ اشک!

اپنے نادیدہ اجالوں کی پھواروں سے

کوئی قطرہ ءِ اشک!

جس سے دھندلائے بدن

پھر سے نکھر کرنکلیں

خندہ ءِ نور سے بھرکرنکلیں!

ن م راشد