سومنات

نئے سرے سے غضب کی سج کر

عجوزہ ءِ سومنات نکلی،

مگر ستم پیشہ غزنوی

اپنے حجلہ ءِ خاک میں ہے خنداں____

وہ سوچتا ہے:

بھری جوانی سہاگ لوٹا تھا میں نے اس کا،

مگر مرا ہاتھ

اس کی روحِ عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا

اور اب فرنگی یہ کہہ رہا ہے:

کہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو

جس کے مالک تمھیں ہو

ہم مل کے نورِ کمخواب سے سجائیں!

وہ جانتا ہے،

وہ نورِ کمخواب چین و ما چین میں نہیں ہے

کہ جس کی کرنوں میں

ایسا آہنگ ہو کہ گویا

وہی ہو ستار عیب بھی

اورپردہ ءِ ساز بھی وہی ہو!

عجوزہ ءِ سومنات کے اس جلوس میں ہیں

عقیم صدیوں کا علم لادے ہوئے برہمن

جو اک نئے سامراج کے خواب دیکھتے ہیں

اور اپنی توندوں کے بل پہ چلے ہوئے مہاجن

حصولِ دولت کی آرزو میں بہ جبر عریاں،

جو سامری کے فسوں کی قاتل حشیش پی کر

ہیں رہگزاروں میں آج پا کوب ومست و غلطاں

دف و دہل کی صدائے دلدوز پر خروشاں!

کسی جزیرے کی کور وادی کے

وحشیوں سے بھی بڑھ کے وحشی،

کہ اُن کے ہونٹوں سے خوں کی رالیں ٹپک رہی ہیں

اور اُن کے سینوں پہ کاسہ ءِ سر لٹک رہے ہیں

جو بن کے تاریخ کی زبانیں

سنا رہے ہیں فسانہ ءِ صد ہزار انساں!

اور اُن کے پیچھے لڑھکتے، لنگڑاتے آ رہے ہیں

کچھ اشتراکی،

کچھ اُن کے احساس شناس مُلّا

بجھا چکے ہیں جو اپنے سینے کی شمعِ ایقاں!

مگر سرِ راہ تک رہے ہیں

کبھی تو دہشت زدہ نگاہوں سے

اور کبھی یاسِ جاں گزا سے

غریب و افسردہ دل مسلماں،

جو سوچتے ہیں،

کہ اے خدا

آج اپنے آبا کی سر زمیں میں

ہم اجنبی ہیں،

ہدف ہیں نفرت کے ناوکِ تیز و جانستاں کے!

منو کے آئیں کا ظلم سہتے ہوئے ہریجن

کہ جن کا سایہ بھی برہمن کے لیے

ہے دزدِ شبِ زمستاں

وہ سوچتے ہیں:

کہیں یہ ممکن ہے:

بیچ ڈالے گا

ہم کو بردہ فروشِ افرنگ

اب اسی برہمن کے ہاتھوں

کہ جس کی صدیوں پرانے سیسے سے

آج بھی کور و کر ہیں سب ہم!

جو اَب بھی چاہے

تو روک لے ہم سے نورِ عرفاں!‘‘

ستم رسیدہ نحیف و دہقاں

بھی اس تماشے کو تک رہا ہے،

اُسے خبر بھی نہیں کہ آقا بدل رہے ہیں

وہ اس تماشے کو

طفلِ کمسن کی حیرتِ تابناک سے محض دیکھتا ہے!

جلوس وحشی کی آز سے

سب کو اپنی جانب بلا رہا ہے

کہ ربّہ ءِ سومنات کی بارگاہ میں آکے سرجھکاؤ!

مگر وہ حسِ ازل

جو حیواں کو بھی میسر ہے

سب تماشائیوں سے کہتی ہے:

اس سے آگے اجل ہے

بس مرگِ لم یزل ہے!

اسی لیے وہ کنارِ جادہ پر ایستادہ ہیں، دیکھتے ہیں!

ن م راشد