رات عفریت سہی

رات عفریت سہی،

چار سو چھائے ہوئے موئے پریشاں جس کے

خون آلودہ نگاہ و لب و دنداں جس کے

ناخنِ تیز ہیں سوہانِ دِل و جاں جس کے

رات عفریت سہی،

شکرِ للہ کہ تابندہ ہے مہتاب ابھی

چند میناؤں میں باقی ہے مئے ناب ابھی

اور بے خواب مرے ساتھ ہیں احباب ابھی

رات عفریت سہی،

اسی عفریت نے سو بار ہزیمت پائی

اس کی بیداد سے انساں نے راحت پائی

جلوہ ءِ صبحِ طرب ناک کی دولت پائی

رات عفریت سہی،

آؤ احباب کہ پھر جشنِ سحر تازہ کریں

پھر تمناؤں کے عارض پہ نیا غازہ کریں

ابنِ آدم کا بلند آج پھر آوازہ کریں

13، فروری 1953ء

ن م راشد