دوری

ن م راشد

مجموعہ کلام ایران میں اجنبی

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

وہ پہلی شبِ مہ شبِ ماہِ نیم بن جائے گی

جس طرح سازِ کُہنہ کے تارِ شکستہ کے دونوں سِرے

دو اُفق کے کناروں کے مانند

بس دُور ھی دُور سے تھرتھراتے ھیں اور پاس آتے نہیں ھیں

نہ وہ راز کی بات ھونٹوں پہ لاتے ھیں

جس نے مُغنّی کو دورِ زماں و مکاں سے نکالا تھا،

بخشی تھی خوابِ ابد سے رھائی!

یہ سچ ھے تو پھر کیوں

کوئی ایسی صوُرت، کوئی ایسا حِیلہ نہ تھا

جس سے ھم آنے والے زمانے کی آھٹ کو سُن کر

وھیں اُس کی یورش کو سینوں پہ یوُں روک لیتے:

کہ ھم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ھیں

یہ سوچا تھا شاید

کہ خود پہلے اِس بُعد کے آفرینندہ بن جائیں گے

اب جو اِک بحرِ خمیازہ کش بن گیا ھے!

تو پھر اَزسرِ نو مسّرت سے، نورس نئی فاتحانہ مسّرت سے

پائیں گے بھوُلی ھوُئی زندگی کو

وھی خوُد فریبی، وھی اَشک شوئی کا ادنیٰ بہانہ!

مگر اَب وھی بُعد سرگوشیاں کر رھا ھے:

کہ توُ اپنی منزل کو واپس نہیں جا سکے گا،

نہیں جا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں،

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

یہ عفریت پہلے ہزیمت اُٹھائے گا، مِٹ جائے گا!

ن م راشد