دوئی کی آبنا (کتاب ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اِک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

وہ عشق جس کی عمر

آدمی سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہانہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب ونان کا رُکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو ایسا

ناگزیر جال بھی نہیں

یہ ہم،

جوحادثے کے لائے و گل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جوہوش کے شگاف سے۔۔۔۔

جواستوائے جسم وروح سے اٹھے۔۔۔۔

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

۔۔۔۔اوراس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جوبے نیازِ بُعدتھا

جومشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا!

ہماری ایک جراْتِ نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صداکی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آرپارڈھونڈنے لگے

اُسی طلوع کی خبر

جووقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی

ساحلَ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں پھسل گیا!

صدا پکارتی ہے پھر

وہی طلوع جس کوروچکے تھے تم

ابھی ابھی

دوئی کی آبنا کے ساحلوں کی مرگ ریت پر

جھلک اُٹھا!

ن م راشد