دوئی کی آبنا (پرانا ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

ٍصدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

نہیں کہ میں غذا نہیں

مجھے نہ کھا سکو گے تم

میں آب و نان سے بندھا ہوا نہیں

میں اپنے آپ سے بھرا ہوا نہیں

ہیں میرے چار سو وہ آرزو کے تار

تارِ خار دار

جن کو کھا نہیں سکو گے تم

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

ابھی نہ کھا سکو گے تم!

یہ سانپ دیکھتے ہو کیا؟

تمہارے جسم و جاں میں کھا رہا ہے بل

تمام دن، تمام رات

(وہ سانپ جس سے سب سے پہلی مرتبہ بہشت میں ملے تھے تم)

کبھی یہ اپنے زہر ہی میں جل کے خاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ کو نگل کے پاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ ہی میں سو گیا

تو پھر کھلیں گے سب کے ہاتھ

اب کے پاؤں اس نئے الاپ کی طرف بڑھیں گے

جس سے ہر وصال کی نمود ہے

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

یہ جانتے نہیں ہو تم

نہنگ مچھلیوں کو کھا رہے تھے۔۔۔

کھا رہے تھے

آخر اک بڑا نہنگ رہ گیا

ہزار من کا اک بڑا نہنگ (اکیلی جان) زندہ رہ گیا

اور اپنے اس اکیلے پن سے تنگ آ کے

اپنے آپ ہی کو کھا گیا!!

کہ نان و آب سے بندھے ہوؤں کا۔۔۔

اپنے آپ سے بھرے ہوؤں کا۔۔۔۔۔

بس یہی مآل ہے

یہ آخری وصال ہے!

مگر وہ عشق۔۔۔ جس کی عُمر ہم سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہا نہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب و نان کا رکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو

ایسا نا گزیر جال بھی نہیں

یہ ہم

جو حادثے کے لائے گِل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جو ہوش کے شگاف سے

جو استوائے جسم و روح سے اٹھے

ہمیں نہ کھا سکو گے تم

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

اور اس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جو بے نیازِ بُعد تھا

جو مشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا

تو کس طرح کہوں کہ ہم

تمام آب و نان کا رکا ہوا سوال ہیں؟

تمام اپنی بھوک کا جواب ہیں؟

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

کہ ایک میری جرأت نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صدا کی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آر پار ڈھونڈھنے لگے

اُسے طلوع کی خبر

جو وقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی، ساحلِ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں سے نا گہاں پھسل گیا

کہ وہ طلوع جس کو رو چکے تھے ہم

پھر آج ان کے ساحلوں کی ریت سے

جھلک اٹھے

ن م راشد