خود سے ہم دور نکل آئے ہیں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی تھی

سالہا دشت نوردوں سے، جہاں گردوں سے

اپنا ہی عکسِ رواں تھی گویا

کوئی روئے گزراں تھی گویا

ایک محرومیِ دیرینہ سے شاداب تھے

آلام کے اشجار وہاں

برگ و بار اُن کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسیِ افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں،

کبھی ارمانوں کے آوارہ، سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے تھے، سستاتے تھے،

اور کبھی شوق کے ویرانوں کو اڑ جاتے تھے،

شوق، بے آب و گیاہ

شوق، ویرانہ ءِ بے آب و گیاہ،

ولولے جس میں بگولوں کی طرح ہانپتے تھے

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے تھے

ہم کہ اب میں سے بہت دور نکل آئے ہیں

دور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس منزل میں

عشقِ گم گشتہ کے افسانوں کے خواب

ولولوں کے وہ ہیولے ہیں جہاں

جن کی حسرت میں تھے نقّاش ملول

جن میں افکار کے کہساروں کی روحیں

سر و روبستہ ہیں،

اوّلیں نقش ہیں ارمانوں کے آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور آمیدوں کے جنیں!

اپنی ہی ذات کے ہم سائے ہیں

آج ہم خود سے بہت دور نکل آئے ہیں!

ن م راشد