خواب کی بستی (سانیٹ)

مرے محبوب، جانے دے، مجھے اُس پار جانے دے

اکیلا جاؤں گا اور تیر کے مانند جاؤں گا

کبھی اس ساحلِ ویران پر میں پھر نہ آؤں گا

گوارا کر خدارا اس قدر ایثار جانے دے!

نہ کر اب ساتھ جانے کے لیے اصرار جانے دے!

میں تنہا جاؤں گا، تنہا ہی تکلیفیں اٹھاؤں گا

مگر اُس پار جاؤں گا تو شاید چین پاؤں گا

نہیں مجھ میں زیادہ ہمتِ تکرار جانے دے!

مجھے اُس خواب کی بستی سے کیا آواز آتی ہے؟

مجھے اُس پار لینے کے لیے وہ کون آیا ہے؟

خدا جانے وہ اپنے ساتھ کیا پیغام لایاہے

مجھے جانے دے اب رہنے سے میری جان جاتی ہے!

مرے محبوب! میرے دوست اب جانے بھی دے مجھ کو

بس اب جانے بھی دے اس ارضِ بے آباد سے مجھ کو!

ن م راشد