حیلہ ساز

کئی تنہا برس گزرے

کہ اس وادی میں، ان سر سبز اونچے کوہساروں میں،

اٹھا لایا تھا میں اُس کو،

نظر آتا ہے گاڑی سے وہ سینے ٹوریم اب بھی

جہاں اُس سے ہوئی تھیں آخری باتیں:

تجھے اے جان، میرے بے وفائی کا ہے غم اب بھی؟

محبت اُس بھکارن سے؟

وہ بے شک خوبصورت تھی،

مگر اُس سے محبت، آہ نا ممکن!

محبت گوشت کے اُس کہنہ و فرسودہ پیکر سے؟

ہوسناکی؟

میں اک بوسے کا مجرم ہوں

فقط اک تجربہ منظور تھا مجھ کو

کہ آیا مفلسی کتنا گرا دیتی ہے انساں کو!

نہ آیا اعتماد اُس کو مری اس حیلہ سازی پر،

بس اپنی ناتواں، دلدوز آنکھوں سے

پہاڑوں اور اُن تندور سر افروختہ ؟؟؟ کو وہ تکتی رہی پیہم:

یہ دیکھو ایک اونچے پیڑ کا ٹہنا

پہاڑی میں بنا لی اس نے اپنی راہ یوں جیسے

چٹان اس کے لیے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی!

زمانے بھر پہ تاریکی سی چھائی ہے

مگر وہ یاد کے روزن سے آتی ہے نظر اب بھی

مجھے بھولی نہیں وہ بے بسی اُس کی نگاہوں کی

اور اُس کی آخری باتیں ہیں یاد اب تک!

مگر میں اس لیے تازہ افق کی جستجو میں ہوں

کہ اُس کی یاد تک روپوش ہو جائے؟

ن م راشد