حرفِ ناگفتہ

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو

کوئے و برزن کو،

دروبام کو،

شعلوں کی زباں چاٹتی ہو،

وہ دہن بستہ و لب دوختہ ہو

ایسے گنہ گار سے ہشیار رہو!

شحنہء شہر ہو، یا بندہء سلطاں ہو

اگر تم سے کہے: لب نہ ہلاؤ

لب ہلاؤ، نہیں، لب ہی نہ ہلاؤ

دست و بازو بھی ہلاؤ،

دست و بازو کو زبان و لبِ گفتار بناؤ

ایسا کہرام مچاؤ کہ سدا یاد رہے،

اہلِ دربار کے اطوار سے ہشیار رہو!

اِن کے لمحات کے آفاق نہیں –

حرفِ ناگفتہ سے جو لحظہ گزر جائے

شبِ وقت کا پایاں ہے وہی!

ہائے وہ زہر جو صدیوں کے رگ و پے میں سما جائے

کہ جس کا کوئی تریاق نہیں!

آج اِس زہر کے بڑھتے ہوئے

آثار سے ہشیار رہو

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو!

ن م راشد