جہاں ابھی رات ہے ۔۔

جہاں ابھی رات ہے، ہوا کے سوا

کوئی زندہ تو نہیں ہے

ابھی ہَوا ساحلوں کے بے تاب ہمہموں سے

گزر کے اپنی طلب کے سونے

چہار راہوں میں رک گئی ہے ۔۔

اگر وہ چاہے،

تو دُودِ ماضی کے بام و دیوار پھاند جائے

(وہ دست و پا کے پرانے زخموں

کی ریزشِ خوں سے ڈر رہی ہے)

ہوا کشوں کی نگہ سے بچ کر

اگر وہ چاہے،

غموں کی بے صرفہ کھڑکیوں کے

سیاہ شیشوں کو توڑ ڈالے

دلوں کی افسردہ جلوتوں کا سراغ پا لے

(وہ ناتوانوں کے زورِ بازو کے

رازِ پنہاں سے کانپتی ہے)

اگر وہ چاہے،

شگافِ در سے

(جو رات بھر سے

ہماری بے التفاتیوں سے

کھلے رہے ہیں)

ہمارے صحنوں کو روند ڈالے

ہمارے صحنوں کے چار گوشوں میں پھیل جائے

(مگر وہ ہر صحن کی اداسی کو بھانپتی ہے)

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہا ں ابھی لوگ

بہتے پانی کو بوڑھے دانتوں سے کاٹتے ہیں

اور ایسے روتے ہیں خواب میں

جیسے ایک بے جان جسد سے لگ کے

وہ سو رہے ہوں!

ہوا کو اس کی خبر نہیں ہے

ہوا کا ان ہول کے پلوں پر

گزر نہیں ہے!

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہاں ابھی لوگ

آرزؤں کے نرد بانوں پہ چل رہے ہیں

قدم قدم پر پھسل رہے ہیں

کہ جیسے صحرا سمندروں میں پھسل رہا ہو!

جہاں ابھی رات ہے

ہوا کے سوا کوئی پردہ در نہیں ہے ۔۔

مگر ہوا جب طلب کی راہوں کو چھوڑ کر پھر

ہمارے دیوار و در پہ جھپٹی

ہمیں پھر اپنی برہنگی کا یقین ہو گا

اور اپنے جسموں کے چاک ہم

رات کی سیاہی میں دیکھتے ہی

بہت ہنسیں گے!

ن م راشد