جرأتِ پرواز

بجھ گئی شمع ضیا پوشِ جوانی میری!

آج تک کی ہے کئی بار محبت میں نے

اشکوں اور آہوں سے لبریز ہیں رومان مرے

ہو گئی ختم کہانی میری!

مٹ گئے میری تمناؤں کے پروانے بھی

خوفِ ناکامی و رسوائی سے

حسن کے شیوہ ءِ خود رائی سے

دلِ بے چارہ کی مجبوری و تنہائی سے!

میرے سینے ہی میں پیچاں رہیں آہیں میری

کر سکیں روح کو عریاں نہ نگاہیں میری!

ایک بار اور محبت کر لوں

سعیِ ناکام سہی

اور اک زہر بھرا جام سہی

میرا یا میری تمناؤں کا انجام سہی

ایک سودا ہی سہی، آرزوئے خام سہی

ایک بار اور محبت کر لوں؟

ایک انسان سے الفت کر لوں؟

میرے ترکش میں ہے اک تیر ابھی

مجھ کو ہے جرأتِ تدبیر ابھی

بر سرِ جنگ ہے تقدیر ابھی

اور تقدیر پہ پھیلانے کو اک دام سہی؟

مجھ کو اک بار وہی کوہ کنی کرنے دو

اور وہی کاہ بر آوردن بھی___؟

یا تو جی اٹھوں گا اس جرأتِ پرواز سے میں

اور کر دے گی وفا زندہ ءِ جاوید مجھے

خود بتا دے گی رہِ جادہ ءِ امید مجھے

رفعتِ منزلِ ناہید مجھے

یا اُتر جاؤں گا میں یاس کے ویرانوں میں

اور تباہی کے نہاں خانوں میں

تاکہ ہو جائے مہیا آخر

آخری حدِ تنزل ہی کی ایک دید مجھے

جس جگہ تیرگیاں خواب میں ہیں

اور جہاں سوتے ہیں اہریمن بھی

تاکہ ہو جاؤں اسی طرح شناسا آخر

نور کی منزلِ آغاز سے میں

اپنی اس جرأتِ پرواز سے میں

ن م راشد